جمعرات 18 جون 2026 - 21:10
محرم، کربلا اور مظلومیتِ حسینؑ کی ابدی فتح

حوزہ/ محرم الحرام صرف سوگِ امام حسینؑ کا مہینہ نہیں بلکہ حق و باطل کی دائمی کشمکش کا پیغام بھی ہے۔ واقعۂ کربلا نے صبر، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کی کہ دشمن بھی متاثر ہوئے، جبکہ شہادتِ امام حسینؑ کی یاد آج بھی انسانیت کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور حق کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔

تحریر: مولانا سید علی نقوی امروھوی، حوزہ علمیہ قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی | محرم یعنی وہ مہینہ جو سید الشہدا، سالارِ کربلا، حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام اور آپ کی اولاد و اصحاب کے حزن و ملال اور سوگ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو تمام اہلِ بیت اور معصومین علیہم السلام کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔

راوی بیان کرتا ہے کہ میں محرم کی پہلی تاریخ کو امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپؑ نے فرمایا: 'إِنَّ اَلْمُحَرَّمَ شَهْرٌ كَانَ أَهْلُ اَلْجَاهِلِيَّةِ يُحَرِّمُونَ فِيهِ اَلْقِتَالَ '؛ محرم وہ مہینہ تھا جس میں زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی جنگ و جدل کو حرام سمجھتے تھے، کیونکہ چار مہینے حرمت والے تھے جن میں سے ایک محرم تھا۔ یہ کفار و مشرکین کے درمیان ایک معاہدہ تھا کہ ان چار مہینوں میں جنگ کرنا حرام ہے۔

پھر امامؑ نے فرمایا کہ اس مہینے میں، جس کی حرمت کو مشرکین اور جاہل بھی تسلیم کرتے تھے: 'فَاسْتُحِلَّتْ فِيهِ دِمَاؤُنَا وَ هُتِكَ فِيهِ حُرْمَتُنَا '؛ (افسوس کہ) مسلمانوں کا لبادہ اوڑھنے والوں نے اس ماہ میں حسینؑ کا خون بہایا۔ اس مہینے میں جس میں وہ جنگ نہیں کرتے تھے، انہوں نے اہلِ بیتؑ کی حرمت کو پامال کیا اور 'وَ سُبِيَ فِيهِ ذَرَارِيُّنَا وَ نِسَاؤُنَا '؛ ہماری ذریت (اولاد) اور ہماری خواتین کو قیدی بنایا۔

پھر امامؑ نے فرمایا: 'فَإِنَّ اَلْبُكَاءَ عَلَيْهِ يَحُطُّ اَلذُّنُوبَ اَلْعِظَامَ . '؛ ہمارے حسینؑ پر گریہ کرو، کیونکہ اُن پر رونا بڑے سے بڑے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، دل کو شفاف کرتا ہے اور انسان کے باطن کو منور کرتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کو ایسی خاص اہمیت حاصل تھی۔ کربلا کا واقعہ طویل نہیں تھا، یہ چند گھنٹوں اور ایک محدود سرزمین پر رونما ہوا مگر اس واقعے کے چودہ صدیوں بعد بھی اور اس کے وقوع پذیر ہونے سے برسوں قبل بھی، آپ کا نامِ نامی ذکرِ خیر کے طور پر موجود رہا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ حضرت آدمؑ کی زبان پر بھی تھا اور حضرت زکریاؑ کے ہاں بھی۔"

(حوالہ جات: بحار الانوار، جلد 44، صفحہ 283؛ الاقبال، صفحہ 544؛ الامالی للصدوق، صفحہ 128)

"کُلُّ یَوْمٍ عَاشُورَا و کُلُّ أَرْضٍ کَرْبَلاء" اگر چہ یہ جملے اہل بیت علیہم السلام سے منقول حدیث یا روایت نہیں ہے ۔ اگر چہ عاشورہ کا کسی بھی جگہ یا وقت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر ہم “کربلا” اور “یوم عاشورہ” کے درس پر توجہ دیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہر زمانے میں کچھ لوگ اپنے امام کی پیروی کرتے ہیں، کچھ ان کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں اور کچھ غیر جانبدار یا صرف تصادم کا مشاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں ۔

ہم ہر روز حق و باطل کے درمیان کشمکش دیکھ رہے ہیں لہذا اس تناظر میں کہہ سکتے ہیں کہ ہر دن “عاشورہ” اور ہر لمحہ “کربلا” ہے ۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنی مظلومیت، صبر و استقلال، جہاد اور استقرارِ علی الحق کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ دشمن بھی آپ سے متاثر تھے۔

جب مخدراتِ عصمت و طہارت دربارِ یزید میں پہنچی ، تو بنی اُمیہ کی خواتین نے فریاد اور آہ و بکا شروع کر دیا۔ ظالم یزید مجبور ہو کر اپنی زوجہ ہند بنت عبداللہ ابن عامر ابن کریز کو گریہ کی اجازت دینے پر مجبور ہو گیا ۔ خاندانِ بنی امیہ کی کوئی عورت ایسی نہ تھی جس نے اہل حرم کی خدمت میں آ کر گریہ و زاری نہ کیا ہو، بلکہ اموی خاندان کے مشہور افراد بھی دربارِ عام میں اس واقعہ پر اظہار افسوس کرتے تھے۔

چنانچہ مروان کے بھائی یحییٰ ابن حکم اموی نے امام حسین علیہ السلام کے مصائب کو سن کر بھرے دربار میں یزید کے سامنے حزنیہ انداز میں مرثیہ پڑھا۔ اس کو کہتے ہیں مظلومیت کی فتح، جس کو تاریخ الکامل ابن اثیر (جلد 4، طبع مصر) کے حوالے سے قلمبند کیا گیا ہے۔آلِ زبیر جو علی اور اولادِ علی کی عداوت میں مشہور تھے (جنہوں نے ایک مدت تک صرف اس وجہ سے حضرت رسول اللہ پر درود بھیجنا ترک کر دیا تھا کہ اس میں آلِ محمد کا تذکرہ ہے)، عبداللہ ابن زبیر نے چالیس جمعوں تک نماز میں درود نہیں پڑھا صرف اس لیے کہ اس میں اہل بیت بھی شامل ہیں۔ ذرا سوچئے کہ جو علی اور اولادِ علی کے ایسے دشمن تھے کہ ان کے نام سن کر ہی غصے میں کانپنے لگتے تھے، لیکن واقعاتِ کربلا کے بعد ان دشمنانِ اہل بیت کی یہ حالت ہوئی کہ عبداللہ ابن زبیر شہادتِ امامِ مظلوم کی خبر سنتے ہی منبر پر گیا اور فضائل و مصائب بیان کرنے لگا (طبری ج/2 ص/339) اور اس کا دوسرا بھائی مصعب ابن زبیر جب عبدالملک ابن مروان سے جنگ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو واقعاتِ کربلا اور شہادتِ حسین کے حالات سننے کی خواہش کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha